۞ ﷽ ۞
(كِتَابُ الْأَخْلاَقِ + سبق نمبر1)
#حديث_1..!!
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا » [رواه البخارى ومسلم]
#ترجمہ..!!
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں ۔ (بخاری و مسلم بحوالہ معارف الحدیث نمبر 242)
#مختصر_تشریح..!!
رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیم میں ایمان کے بعد جن چیزوں پر بہت زیادہ زور دیا ہے، اور انسان کی سعادت کو ان پر موقوف بتلایا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اخلاقِ حسنہ اختیار کرے، اور بُرے اخلاق سے اپنی حفاظت کرے ۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے جن مقاصد کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے، اُن میں ایک یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کو انسانوں کا تزکیہ کرنا ہے (ويزكيهم) اور اس تزکیہ میں اخلاق کی اصلاح اور درستی کی کاص اہمیت ہے ۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں کود آپ سے یہ مضمون روایت کیا گیا ہے، کہ میں اخلاق کی اصلاح کے لئیے مبعوث کیا گیا ہوں ۔ یعنی اصلاحِ اخلاق کا کام میری بعثت کے اہم مقاصد اور میرے پروگرام کے خاص اجزاء میں سے ہے ۔ اور ہونا بھی یہی چاہئے تھا کیوں کہ انسان کی زندگی اور اس کے نتائج میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے، اگر انسان کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کی اپنی زندگی بھی قلبی سکون اور خوشگواری کے ساتھ گزرے گی اور دوسروں کے لئے بھی اس کا وجود رحمت اور چین کا سامان ہو گا، اور اس کے برعکس اگر آدمی کے اخلاق بُرے ہوں، تو خود بھی وہ زندگی کے لطف و مسرت سے محروم رہے گا اور جن سے اس کا واسطہ اور تعلق ہو گا ان کی زندگیاں بھی بے مزہ اور تلخ ہوں گی ۔ یہ تو خوش اخلاقی اور بداخلاقی کے وہ نقد دنیوی نتیجے ہیں جن کا ہم آپ روز مرہ مشاہدہ اور تجربے کرتے رہتے ہیں، لیکن مرنے کے بعد والی ابدی زندگی میں ان دونوں کے نتیجے ان سے بدرجہا زیادہ اہم نکلنے والے ہیں، آخرت میں خوش اخلاقی کا نتیجہ ارحم الراحمین کی رضا اور جنت ہے اور بداخلاقی کا انجام خداوند قہار کا غضب اور دوزخ کی آگ ہے ۔ "اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا" ...
#واللّٰهُ_الْمُوَفِّقُ_وَالْمُعِيْنُ
No comments:
Post a Comment