*♥شمائل نبوی♥*
*★قسط 1★*
*💌حضور اکرم ﷺ کا حلیہ مبارک :* حضور اکرم ﷺ کے جمال مبارک کی کما حقہ تعبیر کرنا ممکن نہیں، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی ہمت اور وسعت کے مطابق جو کچھ ضبط فرمایا اس کا خلاصہ پیش ہے :
💞ابراہیم بن محمد جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں یعنی پوتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب حضور اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک کا بیان فرماتے تو کہا کرتے تھے کہ حضور ﷺ نہ زیادہ لمبے تھے نہ زیادہ پستہ قد بلکہ میانہ قد لوگوں میں تھے، حضور اکرم ﷺ کے بال مبارک نہ بالکل پیچدار تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی لئے ہوئے تھے، نہ آپ ﷺ موٹے بدن کے تھے نہ گول چہرہ کے؛ البتہ تھوڑی سی گولائی آپ کے چہرہ مبارک میں تھی یعنی چہرہ انور نہ بالکل گول تھا نہ بالکل لمبا بلکہ دونوں کے درمیان تھا- حضور ﷺ کا رنگ سفید سرخی مائل تھا، حضور ﷺ کی مبارک آنکھیں نہایت سیاہ تھیں اور پلکیں دراز، بدن کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی تھیں (مثلا کہنیاں اور گھٹنے) اور ایسے ہی دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ بھی موٹی اور پُر گوشت تھی، آپ ﷺ کے بدن مبارک پر معمولی طور سے زائد بال نہیں تھے، یعنی بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بدن پر بال زیادہ ہو جاتے ہیں حضور اقدس ﷺ کے بدن مبارک پر خاص خاص حصوں کے علاوہ جیسے بازو پنڈلیاں وغیرہ ان کے علاوہ اور کہیں بال نہ تھے، آپ ﷺ کے سینہ مبارک سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی، آپ ﷺ کے ہاتھ اور قدم مبارک پُر گوشت تھے، جب آپ ﷺ تشریف لے چلتے تو قدموں کو قوت سے اٹھاتے گویا کہ پستی کی طرف چل رہے ہیں، جب آپ کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن مبارک کے ساتھ توجہ فرماتے تھے یعنی یہ کہ صرف گردن پھیر کر کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لئے کہ اس طرح دوسروں کے ساتھ لا پرواہی ظاہر ہوتی ہے اور بعض اوقات متکبرانہ حالت ہو جاتی ہے، بلکہ سینہ مبارک سمیت اس طرف رخ فرماتے.
آپ ﷺ کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی، نبیوں کے آپ ﷺ ختم کرنے والے تھے، آپ ﷺ سب سے زیادہ سخی دل والے تھے اور سب سے زیادہ سچی زبان والے تھے، سب سے زیادہ نرم طبیعت والے تھے اور سب سے زیادہ شریف گھرانے والے تھے- غرض آپ ﷺ دل و زبان، طبیعت، خاندان اوصاف ذاتی اور نسبتی ہر چیز میں سب سے زیادہ افضل تھے- آپ ﷺ کو جو شخص یکایک دیکھتا مرعوب ہوجاتا تھا، یعنی آپ ﷺ کا وقار اس قدر زیادہ تھا کہ اول وہلہ میں دیکھنے والا رعب کی وجہ سے ہیبت میں آجاتا تھا، اول تو جمال و خوبصورتی کے لئے بھی رعب ہوتا ہے اس کے ساتھ جب کمالات کا اضافہ ہو تو پھر رعب کا کیا پوچھنا!!
اس کے علاوہ حضور اقدس ﷺ کو جو مخصوص چیزیں عطا ہوئیں، ان میں رعب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا اور جو شخص پہچان کر میل جول کرتا تھا وہ آپ ﷺ کے اخلاق کریمہ و اوصاف جمیلہ کا گھائل ہو کر آپ ﷺ کو محبوب بنا لیتا تھا، آپ ﷺ کا حلیہ بیان کرنے والا صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے حضور اکرم ﷺ جیسا باجمال و باکمال نہ حضور ﷺ سے پہلے دیکھا نہ بعد میں دیکھا۔ ﷺ
(شمائل ترمذی)
[[...جاری...]]
No comments:
Post a Comment