Shumail e Nabi Qist 11

*♥شمائل نبوی♥*

*★قسط11★*

*💞 آنحضرت ﷺ کے معمولات سفر:*

💞آنحضرت ﷺ سفر کے لیے خود روانہ ہوتے یا کسی اور کو روانہ فرماتے تو جمعرات کے روز روانگی کے لیے مناسب خیال فرماتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
جمعرات کے دن سفر میں جانا مسنون ہے. شنبہ کے دن بھی مستحب ہے (اسوہ رسول اکرم ﷺ)

💞جب آپﷺ سفر کے لیے نکلتے تو ازواج مطہرات کو ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ ڈالتے. جس کا نام نکل آتا اسی کو ساتھ لے کر جاتے (ذاد امعاد)

💞 جب آپﷺ سفر کرتے توابتدائے دن میں نکلتے. اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا فرماتے کہ آپﷺ کی امت کو سویرے(جانے) میں برکت دے(زاد المعاد)

💞 سفر میں کتنی ہی کم مدت کے لیے ٹہرتے جب تک نماز دوگانہ ادا نہ فرماتے وہاں سے روانہ نہ ہوتے(اسوہ رسول اکرمﷺ)

💞 جب کوئی مسافرسفر سے واپس آتااور خدمت اقدس میں حاضری دیتا تو اس سے معانقہ کرتے اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے(اسوہ رسول اکرمﷺ)

💞 سفر میں کوئی کام سب کو کرنا ہوتا تو آپﷺ کام کاج میں ضرور حصہ لیتے (اسوہ رسول اکرمﷺ)

💞 سفر سے واپسی پر آپﷺ پہلے مسجد میں جا کر نماز دوگانہ ادا فرماتے اور پھر گھر تشریف لے جاتے(اسوہ رسول اکرمﷺ) یہ مسنون عمل ہے.

💞 حالت سفرمیں نماز قصر کا معمول تھا (زاد المعاد)

 💞سفر سے بہت دنوں بعد لوٹےاور گھر والوں کوآنے کی اطلاع نہ ہو تو سنت یہ ہے کہ اچانک گھرمیں داخل نہ ہو بلکہ اپنے انے کی خبر کرے اور کچھ دیر بعد گھر میں داخل ہو (از اسوہ رسول اکرمﷺ)
💞مسنون ہے کہ سفر کم از. کم دو آدمی جائیں تنہا آدمی سفر نہ کرے(اسوہ رسول اکرمﷺ)

💞 اگر مسافر تین ہوتے تو حکم فرماتے ایک کو امیر بنا لیں(زاد المعاد)

💞 جب سفر کے لیے روانہ ہوتے اور سواری پر اچھی طرح بیٹھ جاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور  یہ دعا پڑھتے

*سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٌذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلـى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ. أَللٌّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٌذَا الْبِرَّ وَالتَقْوى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضى. أَللٌّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْـنَا سَفَرَنَا وَأَطْوِ عَنَّا بُعْدَالارض. أَللٌّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ*

ترجمہ:  اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے قبضہ میں دے دیا اور اس کی قدرت کے بغیر ہم اسے قبضہ میں کرنے والے نہ تھےاور بلاشبہ ہم کو اپنے رب کی طرف جانا ہے. اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا سوال کرتے ہیں اورا. اعمال کاسوال کرتے ہیں جس سے آپ راضی ہوں. اے اللہ! ہمارے سفر کو ہم پر آسان فرمااور زمین کی مسافت کو ہم پر آسان فرما دے. اے اللہ! اپ ہی رفیق سفر ہیں سفر میں خبر گیری کرنے والے گھربار اور مال کی.

💞جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو اوپر والی دعا کے ساتھ یہ الفاظ اور بڑھا دیتے

*آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ، لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ* (زاد المعاد)
ترجمہ : ہم سفر سے لوٹ آئے، ہم گناہوں سے توبہ کرتے ہیں، ہم (ہر حال میں) عبادت گزار ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کرتے ہیں

💞جب کسی نلندی پر سواری چڑھتی تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور فرماتے

*اللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ* (زاد المعاد)
ترجمہ:  اے اللہ! ہر بلند جگہ پر عزت و حیثیت تیرے لیے ہی ہے اور ہر حال میں تعریف تیرے لیے ہے.

💞جب کسی شہر یاگاؤں میں قیام کا ارادہ ہوتا تو اس کو
دور سے دیکھ کر تین بار فرماتے

*اللَھُمَ بَارِک لَنَا فیھا*

💞جب کسی شہر یاگاؤں میں داخل ہونے لگتے تو فرماتے

*اللھم ارزقنا جناھاوحببنا الی اھلھا وحبب صالحی اھلھاالینا* (زادالمعاد)
ترجمہ: اے اللہ! نصیب کیجیے ہمیں ثمرات اس کے اور ہمیں عزیز کر دیجیے اھل شھر کے نزدیک اور ہمیں شھر کے نیک لوگوں کی محبت دیجیے

💞جب کسی شخص کوسفر کے رخصت فرماتے تو دعا فرماتے

*أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ اعَمَالِكَ* (زادالمعاد)
ترجمہ: میں تیرا دین تیری قابل حفاظت چیزوں اور تیرے اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں

💞جب سفر سے واپسی پر گھر والوں میں تشریف لے جاتے تو فرماتے

*تَوْبًا، تَوْبًا، لِرَبِّنَا اَوْبًا، لَایُغَادِرُ عَلَیْنَاحَوْباً* (حصن حصین)
ترجمہ : ہم توبہ کرتے ہیں، توبہ کرتے ہیں، اپنے پروردگار کے لیے ہی ہم لوٹ کر آئے ہیں، (اسی سے دعا ہے کہ) وہ ہمارے کسی گناہ کو باقی نہ چھوڑے

No comments:

Post a Comment