Shumail e Nabi Qist 15

#شمائل_نبوی_صلی_اللہ_علیہ_وسلم♥* 

*★قسط 15★*

*💌حضور ﷺ کی گفتگو کا انداز :* 

💞حضور ﷺ کی  گفتگو صاف صاف ہر مضمون دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا پاس بیٹھنے والے اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیتے تھے(شمائل ترمذی) 

💞آپ ﷺ (بعض مرتبہ) کلام کو (حسب ضرورت) تین تین مرتبہ دہراتے تاکہ آپ کے سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں(شمائل ترمذی) 

💞آپ ﷺ اکثر آخرت کے غم میں مشغول رہتے تھے(شمائل ترمذی) 

💞آپ ﷺ اکثر خاموش رہتے تھے(شمائل ترمذی) 

💞آپ ﷺ کی تمام گفتگو ابتدا سے انتہا تک منہ بھر کر ہوتی تھی (یہ نہیں کہ نوک زبان سے کٹتے ہوئے حروف کے ساتھ آدھی بات زبان سے کہی اور آدھی متکلم کے ذہن میں رہی جیسا کہ موجودہ زمانہ کے متکبرین کا دستور ہے) جامع الفاظ کے ساتھ (جن کے الفاظ تھوڑے ہوں اور معانی بہت ہوں) کلام فرماتے تھے(شمائل ترمذی) 

💞آپ ﷺ کا کلام ایک دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا، نہ اس میں فضولیات ہوتی تھی اور نہ کوتاہیاں کہ مطلب پوری طرح واضح نہ ہو(شمائل ترمذی) 

💞آپﷺ سخت مزاج نہ تھے، نہ کسی کی تذلیل فرماتے تھے(شمائل ترمذی) 

💞 اللہ کی نعمت خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو، اس کو بہت بڑا سمجھتے تھے، اس کی مذمت نہ فرماتے تھے؛ البتہ کھانے کی اشیاء کی نہ مذمت فرماتے، نہ تعریف فرماتے (مذمت نہ فرماتے تو ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کی نعمت ہے، زیادہ تعریف نہ فرمانا اس لئے تھا کہ اس سے حرص کا شبہ ہوتا ہے؛ البتہ اظہارِ رغبت یا کسی دلداری کی وجہ سے کبھی کبھی خاص خاص چیزوں کی تعریف بھی فرمائی ہے)  (شمائل ترمذی) 

💞دنیا اور دنیاوی امور کی وجہ سے آپ کو کبھی غصہ نہ آتا تھا (چونکہ آپ کو ان کی پرواہ بھی نہ ہوتی تھی اس لئے کبھی دنیوی نقصان پر آپ کو کبھی غصہ نہ آتا تھا)

💞  کسی دینی امر اور حق بات سے کوئی شخص تجاوز کرتا تو اس وقت آپﷺ کے غصہ کی کوئی شخص تاب نہ لا سکتا تھا اور کوئی اس کو روک بھی نہ سکتا تھا(شمائل ترمذی) 

💞 جب کسی وجہ سے کسی کی طرف اشارہ فرماتے تو پورے ہاتھ سے اشارہ فرماتے(شمائل ترمذی) 

💞آپ ﷺ کی عادت شریفہ انگلی سے توحید کی طرف اشارہ فرمانے کی تھی، اس لئے غیر اللہ کی طرف انگلی سے اشارہ نہ فرماتے تھے(شمائل ترمذی) 

💞آپ ﷺ کسی بات پر تعجب فرماتے تو ہاتھ پلٹ لیتے تھے اور جب بات کرتے تو ملا لیتے (کبھی گفتگو کے ساتھ؛ ہاتھوں کو بھی حرکت فرماتے) اور کھلی داہنی ہتھیلی کو بائیں انگوٹھے کے اندرونی حصہ پر مارتے(ایک روایت میں ہے کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو بائیں ہتھیلی پر مارتے)(شمائل ترمذی) 

💞 جب کسی پر ناراض ہوتے تو اس سے منہ پھیر لیتے اور بے توجہی فرماتے یا درگزر فرماتے(شمائل ترمذی) 

💞جب خوش ہوتے تو حیاء کی وجہ سے آنکھیں گویا بند فرما لیتے(شمائل ترمذی) 

[[...جاری...]]

No comments:

Post a Comment