Shumail e Nabi Qist 4

#شمائل_نبوی_صلی_اللہ_علیہ_وسلم

*★قسط 4★*

*💌 حضور اکرم ﷺ کی عادات پسندیدہ کنگھا کرنے اور تیل لگانے میں :💕

حضور اکرم ﷺ سوتے وقت مسواک کرتے، وضو کرتے اور سر کے بالوں اور داڑھی مبارک میں کنگھا کرتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)

آنحضرت ﷺسفر میں ہوتے یاحضر میں ہمیشہ بوقت خواب آپ ﷺ کے سرہانے سات چیزیں رکھی رہتیں. تیل کی شیشی، کنگھا، سرمہ دانی، قینچی، مسواک، آئینہ اور ایک لکڑی کی چھوٹی سی سیخ جو سر کے کھجانے میں کام آتی تھی(زاد المعاد)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ اپنے سر مبارک پر اکثر تیل کا استعمال فرماتے تھے اور اپنی داڑھی مبارک میں اکثر کنگھی کیا کرتے تھے اور اپنے سر مبارک پر ایک کپڑا ڈال لیا کرتے تھے جو تیل کے کثرت استعمال سے ایسا ہوتا تھا جیسے تیلی کا کپڑا ہو)(شمائل ترمذی)

آپ ﷺ پہلے دارھی مبارک اور سر مبارک میں تیل لگاتے اور پھر کنگھا کرتے (اسوہ رسول اکرم ﷺ)

رسول اللہ ﷺ کا ہاتھی دانت کا کنگھا تھا (اسوہ رسول اکرم ﷺ)

*💌کنگھی کا مسنون طریقہ :💕
حضور اکرم ﷺ اپنے وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں، جوتا پہننے میں (غرض ہر امر میں) دائیں کو مقدم رکھتے تھے، یعنی پہلے دائیں جانب کنگھا کرتے پھر بائیں جانب. (شمائل ترمذی)

جس چیز کا وجودزینت اور شرافت ہے اس کے کرنے میں دایاں مقدم. کرنا چاہیے اور جس چیز کا وجود زینت نہیں اس کے کرنے میں بایاں مقدم. کرنا چاہیے(مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ)

رسول اللہ ﷺ سفر میں کنگھا، آئینہ، تیل، مسواک اور سرمہ لے جاتے تھے (اسوہ رسول اکرم ﷺ)

کبھی خود کنگھی فرماتے اور کبھی ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کرواتے، یہ گھر کی معاشرت کا نمونہ ہے، آپ ﷺ سے مانگ نکالنا اور سدل کرنا یعنی بالوں کو پیچھے کرنا دونوں ثابت ہیں، مانگ نکالنے کو آخری عمل بتلایا گیا ہے۔ [ملا علی قاری رحمہ اللہ]

آپ ﷺ ایک روز ناغہ کر کے کنگھاکیا کرتے تھے (نشر الطیب)

ایک اور روایت میں ہے کہ گاہےگاہے کنگھی کرتے تھے ( شمائل ترمذی)

علماء نے لکھا ہے کہ روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت جب ہے جب کوئی ضرورت اسکی مقتضی نہ ہو ورنہ کوئی مضائقہ نہیں ہے( مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ)

جو شخص بال رکھے اسکو چاہیے کہ ان کو دھو لیا کرے اور صاف رکھے (ابو داؤد، مشکوۃ)

*💌تیل لگانے کا مسنون طریقہ :*   بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں تیل رکھتے اور پہلے  ابروؤں میں تیل لگاتے، پھر آنکھوں پر پھر سر میں تیل لگاتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)

سر میں تیل لگاتے تو پہلے پیشانی کے رخ سے شروع فرماتے (اسوہ رسول اکرم ﷺ)

*💌حضور اکرم ﷺ کا خضاب لگانا :💕 آپ ﷺ سے خضاب لگانے اور نہ لگانے دونوں کی بابت روایات ہیں.

علماء حنفیہ کے نزدیک خضاب مستحب ہے لیکن مشہور قول کے موافق سیاہ خضاب مکروہ ہے(مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ)

بالوں کو کالا کرنا خواہ خضاب سے ہو یا کالی مہندی سے، مکروہ تحریمی ہے؛ البتہ براؤن رنگ لگانا جائز ہے۔ [امداد الفتاوی]

[[...جاری...]]

No comments:

Post a Comment