#شمائل_نبوی_صلی_اللہ_علیہ_وسلم♥
*★قسط 5★*
*💌حضور اکرم ﷺ کے سرمہ کا بیان :💕
* حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہیں اثمد استعمال کرنا چاہیے کیونکہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے، بال اگاتا ہے اور آنکھ روشن کرنے والی چیزوں میں بہترین ہے (شمائل ترمذی)
اثمد ایک خاص سرمہ کا نام ہے جو سیاہ سرخی مائل ہوتا
ہے. علماء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد تندرست آنکھوں والے وہ لوگ ہیں جن کوموافق آجائے ورنہ مریض آنکھ اس سے ذیادہ دکھنے لگتی ہے (مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ)
سرمہ کا سوتے وقت ڈالنا ذیادہ مفید ہے کہ آنکھ میں دیر تک باقی بھی رھتا ہے اور مسامات میں سرایت بھی اس وقت ذیادہ کرتا ہے (مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ)
حضور اکرم ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سونے کے وقت تین تین سلائی آنکھ میں ڈالا کرتے تھے(شمائل ترمذی)
رسول اللہ ﷺ اپنی داہنی آنکھ میں تین مرتبہ سرمہ لگاتےاور بائیں میں دو مرتبہ(ابن سعد. اسوہ رسول اکرم ﷺ)
*💌سرمہ لگانے کا مسنون طریقہ :💕
❤️سرمہ لگانے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ دونوں آنکھوں میں سے ہرآنکھ میں تین تین سلائی لگائی جائیں
❤️ دائیں آنکھ میں تیسری سلائی بائیں آنکھ میں دو سلائی لگانے کے بعد لگائی جائیں۔
*💌 عادات برگزیدہ خوشبو کے بارے میں 💕
اپ ﷺ خوشبو کی چیز اور خوشبو کو بہت پسند فرماتے تھے اور کثرت سے اسکا استعمال فرماتے اور دوسروں کو بھی اسکی ترغیب دیتے تھے(نشر الطیب)
سونے سے بیدار ہوتے تو قضائے حاجت سے فراغت کے بعد وضو کرتے اور پھر خوشبو لباس پر لگاتے (شمائل ترمذی)
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں نہیں لوٹانی چاہئیں : تکیے، تیل، خوشبو اور دودھ (شمائل ترمذی)
ان چیزوں کے حکم میں وہ سب چیزیں داخل ہیں جو نہایت مختصر ہوں کہ جن کے ہدیہ دینے والے پر بار نہ ہو (مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو بہترین خوشبو میسر آتی وہ میں حضور اکرم ﷺ کو لگاتی، یہاں تک کہ اس خوشبو کی چمک مجھ کو آپ ﷺ کے سر اور داڑھی میں نظر آتی۔ [بخاری و مسلم]
آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو پھیلتی ہوئی ہو اور رنگ غیر محسوس ہو (جیسے کیوڑہ وغیرہ) اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ غالب ہو اور خوشبو مغلوب (جیسے حنا، زعفران وغیرہ) (شمائل ترمذی)
آپ ﷺ مشک اور عود کی خوشبو کو تمام خوشبوؤں سے ذیادہ محبوب رکھتے تھے(زادالمعاد)
ریحان کی خوشبو کو بہت پسند فرماتے (شمائل ترمذی)
آپ کے پاس سکہ (عطر دان یا عطر کا مرکب) تھا جس سے خوشبو لگاتے تھے(شمائل ترمذی)
[[...جاری...]]
No comments:
Post a Comment