Shumail e Nabi Qist 6

#شمائل_نبوی_صلی_اللہ_علیہ_وسلم♥*

*★قسط 6★*

*💌حضور اکرم ﷺ کا لباس مبارک 💕

*💌سادگی:*
حضور اکرم ﷺ گی عادت کریمہ لباس شریف میں وسعت اورترک تکلف تھی. جو پاتے زیب تن فرماتے ار تعیین کی تنگی اختیارنہ فرماتے اور کسی خاص قسم کی جستجو نہ فرماتے اور کسی حال میں عمدہ نفیس کی خواہش نہ فرماتے اور نہ ادنی و حقیر کا خیال فرماتے. جو کچھ میسر ہوتا پہن لیتے اور جو لباس ضرورت کو پورا کر دے اسی پر اکتفا کرتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)

*💌مالی حیثیت کے مناسب لباس:*
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے اس حال میں دیکھا کہ میرے جسم پر کم قیمت کے کپڑے تھے تو فرمایا کیا تیرے پاس اس قسم. کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں! اللہ تعالی نے مجہے ہر قسم کے مال و دولت سے نوازا ہے. پھر فرمایا، خدا کی نعمت اور اسکی بخشش کوتمہارے جسم سے ظاہر ہونا چاہیے (اسوہ رسول اکرم ﷺ)

*💌خاص مواقع کے لیے الگ لباس رکھنا:*
حضورﷺ وفود کے آنے پر انکے لیے تجمل فرماتے اور جمع اور عیدین کے لیے بھی آرائش فرماتے اور مستقل جدا لباس محفوظ رکھتے تھے (مدارج النبوۃ)

*💌قمیص مبارک*
ضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضور ﷺ سب کپڑوں میں کرتے کو زیادہ پسند فرماتے تھے(شمائل ترمذی)

آپ ﷺ کا کرتا سوت کا بنا ہوا تھا، جو زیادہ لمبا بھی نہ تھا اور اس کی آستین بھی زیادہ لمبی نہ تھا(اسوہ رسول اکرم ﷺ)

، ایک روایت میں ہے کہ کرتا مبارک ٹخنوں سے اونچا ہوتا تھا(شمائل ترمذی)

علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے، علامہ جزری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ آستین پہونچے تک ہو، انگلیوں سے متجاوز نہ ہو-

*💌عمامہ مبارک:*
عمامہ باندھنا سنت ہے. ارشاد ہے کہ عمامہ باندھا کرو اس سے حلم میں بڑھ جاؤ گے(فتح الباری)
آپ ﷺ عمامہ کا شملہ ایک بالشت کے قریب چھورتے تھے. عمامہ تقریباً سات گز ہوتا تھا (خصائل نبوی)
صافہ کے نیچے ٹوپی رکھنا سنت ہے.
ٹوپی کو درمیان سے کھلا چھوڑنا صلحاء و علماء کا طریقہ ہے-
عارف باللہ مرشدی حضرت واصف منظور صاحب فرماتے ہیں کہ عمامہ خود باندھا جائے، صاف باندھا جائے، صاف رکھا جائے، کھڑے ہوکر باندھا جائے، عمامہ اس طرح باندھا جائے کہ اس سے سنت سے رغبت ہو کراہیت نہ ہو-

*💌آنحضرت ﷺ کی ٹوپی:*
اآنحضرت ﷺ سفید ٹوپی اوڑھا کرتےتھے. وطن میں آنحضرت ﷺ سفید کپڑے کی چپٹی ہوئی ٹوپی اورھا کرتے تھے(السراج المنیر)
آپ ﷺ نےسوزی نما سلے ہوئے کپڑے کی گارھی ٹوپی بھی اوڑھی ہے(السراج المنیر)

*💌تہبند اور پاجامہ:*
حضور اقدس ﷺ کی عادت شریفہ لنگی باندھنے کی تھی. پاجامہ پہنن مختلف فیہ ہے.
آپﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ پاجامہ پہنتے ہیں تو فرمایا پہنتا ہوں، مجھے بدن ڈھانکنے کا حکم ہے. اس سے زیادہ پردہ اور چیزوں میں نہیں ہے(خصائل نبوی-زادالمعاد)
حضور ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کی لنگی آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے اور اسکے نیچے ٹخنوں تک بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن ٹخنوں سے نیچے جتنے حصہ پرلنگی لٹکے گی وہ آگ میں جلے گا(ابو داؤد، ابن ماجہ)

*💌آنحضرت ﷺ کی چادر:*
آپﷺ چادر کو اس طرح اوڑھتے کہ چادر کو
سیدھی بغل سے نکال کر الٹے کاندھے پر ڈال لیتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ) 

[[...جاری...]]

No comments:

Post a Comment