#شمائل_نبوی_صلی_اللہ_علیہ_وسلم♥*
*★قسط 9★*
*💌حضور اکرم ﷺ کے چلنے اور رفتار مبارک کا ذکر:*
💞جب آپ ﷺ چلتے تھے تو ہمت اور قوت سے پاؤں اٹھاتے (عورتوں کی طرح سے پاؤں زمین سے گھسیٹ کر نہیں چلتے تھے(شمائل ترمذی)
💞چلنے میں تیزی اور قوت کے لحاظ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ) گویا اونچائی سے اتر رہے ہیں(شمائل ترمذی)
💞حضور اکرم ﷺ جب تشریف لے چلتے تو کچھ جھک کر چلتے گویا کہ بلندی سے اتر رہے ہیں(شمائل ترمذی)
💞 نگاہ نیچی رکھتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
💞اپنے اصحاب کو چلنے میں آگے کر دیتے(اسوہ رسول اکرم ﷺ)
💞بلندی پر چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب نیچے وادیوں میں اترتے تو تسبیح کہتے(زادالمعاد)
*💌حضور اکرم ﷺ کی سواریاں :* حضور اکرم ﷺ نے اونٹ، اونٹنی، گھوڑے، خچر اور گدھے وغیرہ پر سواری فرمائی ہے۔
💕آپ ﷺ کی اونٹنیوں کے نام یہ ہیں : قصوی، جدعاء، صہباء، عضباء۔
💕آپ ﷺ کے اونٹ کے نام یہ ہیں : عسکر، ثعلب
💕آپ ﷺ کے گھوڑوں کے نام یہ ہیں : لزاز، سکب، سبحہ، مرتجز، مرتجل، ورد، یعسوب، یعبوب
💕آپ ﷺ کے گدھوں کے نام یہ ہیں : عفیر، یعفور
💕آپ ﷺ کے خچروں کے نام یہ ہیں : دلدل، فضہ
عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ جو آدمی اپنی شاندار گاڑی کو حضور اکرم ﷺ کی کسی بھی سواری سے اعلی سمجھتا ہے اور آپ ﷺ کی سواری کو گھٹیا سمجھتا ہے، اس نے آپ ﷺ کی توہین کی، ہاں! عمدہ اور سہولت والی سواری اتباع سنت کی نیت سے اختیار کرنا جائز بھی ہے اور پسندیدہ بھی۔
[[...جاری...]]
No comments:
Post a Comment